BOYSLINE - INTERNATIONAL DAY OF THE BOY CHILD 16 MAY EACH YEAR






PAKISTANI BOYS

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

لـــڑڪـــا



زندگی کو پانی کا حباب کہا جاتا ہے۔ واقعی یہ آبگینے کی مانند ہوتی ہے۔ اچھے بھلے، بولتے ہنستے لڑکے پلک جھپکتے میں منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں۔ آج جو لڑکےخود گلاب کے پھول کی طرح کھلے ہوتے ہیں وہ پژمردہ کلی کی مانند مرجھا جاتے ہیں اور ان کے پیارے بس آنسو بہاتے رہ جاتے ہیں۔ لڑکوں کو گلاب سے تشبیہ دی جاتی ہے اور لڑکیوں کو کنول سے۔ کنول دیکھنے میں خوبصورت تو ہوتے ہیں مگرانہیں حاصل کرنے کے لیے کیچڑ میں اترنا پڑتا ہے۔ زندگی بیشک یہی ہوتی ہے لیکن بہت مشکل کہ بچوں کو پالنا سب سے اہم مقصد ہوتا ہے۔اچھے برے کی تمیز سکھائی جاتی ہے۔ یہ نہیں کہ شادی کے بعد ماں باپ کو ہی گھر سے نکال دیا جائے۔ اسی طرح لڑکے گلاب ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ لڑکوں کے پیار میں بھی اتنی ہی مشکلات ہوتی ہیں۔ یہ پیار بھی آسان نہیں ہوتا۔ کچھ لڑکے پیار نہ ملنے کی وجہ سے جی تے جی مر جاتے ہیں۔ ہم بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ ہم لڑکوں کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔ پیار بھری۔ جسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔ کچھ لڑکے دوست ہی نہیں زندگی بھر کا سکون ہوتے ہیں۔

کوئی بتائے!!! کہ پاکستان میں کیا ایسے مظلوم لڑکے عمر بھر کسی پہ اعتماد کرسکتے ہیں یا کبھی خوشگوار زندگی بسر کر سکتے ہیں؟؟؟ ہمارے پاکستان کے معاشرے کے ایسے رویوں کی ذمہ داری کس پہ عائد ہوتی ہے؟؟؟

ان معصوم خوبصورت گلابوں (لڑکوں) پہ یا پھر ان کے سرپرستوں پہ، جو اپنے ذہن کی تنگی سے گھر کے آنگن کو ان کے لیے عقوبت خانہ بنا دیتے ہیں۔ تبھی تو یہ اس قید سے گھبرا کے گھروں سے بھاگ نکلتے ہیں۔ پھر ایسا کوئی لڑکا کسی غلط آدمی کے ہتھے چڑھ جائے تو کیا ہوتا ہے اس کے ساتھ؟؟؟ کیا کبھی سوچا ہے کسی نے ؟؟؟ لڑکا تباہ ہوجاتا ہے!!!

جن خوبصورت گلابوں (لڑکوں) کو حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے ہم ان کو کتنی بےدردی سے روند ڈالتے ہیں ۔ ننھے گلابوں کو مسل ڈالتے ہیں۔ ایک خوبصورت اور معصوم سا 16 سالہ لڑکے کی زندگی اپنے ہی سگے بھائی کی نفرت اور شک و شبہ کی وجہ سے اجیرن ہوگئی۔ اپنوں کی ہی وجہ سے وہ اب زندگی سے ہی مایوس نظر آتا ہے۔ ''گھر'' جو ایک لڑکے کا سب سے مضبوط پناہ گاہ ہوتا ہے وہ اسی کو چھوڑنے پہ مجبور ہوچکا۔

۔۔۔ اور اب یہ لڑکا ہمارے سامنے "گلاب ہزار داستان" کی بلڈنگ میں بیٹھا ہے۔۔۔ یہ وہ عمارت ہے جو مظلوم و بےسہارا لڑکوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ لڑکیوں کے لیے نہیں بنی تھی۔ ایک بلڈنگ ہے جس کا نام ہے بلبل ہزار داستان بلڈنگ۔ یہ کراچی میں ہے اور لڑکیوں کے لیے ہے۔

ایسے لڑکوں کی آئندہ زندگی اتنی تلخ ہو جاتی ہے کہ وہ خودکشی تک کا سوچنے لگتے ہیں۔ گھروں کے اندرونی حالات شروع سے ہی کچھ لڑکوں کے لاشعور میں یہ بات بٹھا دیتے ہیں کہ اس دنیا میں وہ اکیلے ہیں اور انہیں خود ہی زندگی کی راہوں پر چلنے کے لیے شاہراہ کا انتخاب کرنا ہوگا۔ دوسری طرف بیرونی زندگی اسکول و کالج کے اندر اتنی پرکیف اور پرکشش نہیں مل پاتی جتنی کہ عموماً ایک میٹرک کے لڑکے کو ملنی چاہئے۔ غرض ہر طرح سے زندگی انہیں ایک نئے اور تلخ دوراہے پر پریشانِ حال ملتی ہے۔

جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی کچھ لڑکوں کو ان کے اپنے ہی لوگ یہ احساس دلادیتے ہیں کہ وہ اب کھل کر سانس بھی نہیں لے سکیں گے۔ بلوغت کی عمر میں لڑکے حسین خواب ہی دیکھا کرتے ہیں۔ آہ!!! لڑکے کی بھی کیا زندگی ہے!!! وہ بھی ایک ہم جنس پسند لڑکے کی۔

اس کی زندگی ایک جہنم سے کم نہیں ہوتی پاکستان جیسے ملک میں۔ یہ سچ ہے کہ بیس بچیس سال کی عمر کے لڑکوں تک کے لیے تخیلات کی دنیا بڑی نرالی اور دلکش مگر بےحد خطرناک ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے خاص کر ہم جنس پسند لڑکوں کی۔ جس کی چاہ میں اکثر ہم جنس پسند لڑکے گھروں سے قدم مجبوراً نکالتے ہیں مگر بےآبرو بھی ہوجاتے ہیں۔



یہ اس لڑکے کا آٹھواں ہونے والا دوست تھا جسے اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ لڑکے کا قد چھوٹا ہے۔ اسے کہانیوں میں بیان کردہ چھ فٹ ہائیٹ والے کسی ہیرو کی تلاش تھی جو ہر طرح سے مکمل ہو۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد ہو، گوری رنگت ہو، گاڑی، بنگلہ، بینک بیلنس ہو، وہ لڑکا جو اسے کسی ناول کے ہیرو کی طرح پلکوں پر بٹھا کر رکھے۔ جو وقتا فوقتا اس سے اظہار محبت کرتا رہے۔ آس پاس دوڑتی ہوئی نوکروں کی فوج ہو اور کبھی نہ ختم ہونے والے پیسے کی ریل پیل۔ بس یہی چند شرائط تھیں اس کی جو اس نے تمام گھر والوں کے سامنے واضح کردی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی اور لڑکے کے ساتھ دوستی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اسے من چاہا محبوب لڑکا چاہیے۔ جب کہانیوں میں مظلوم، غریب ہیرو کو اس کے سپنوں کا من چاہا شہزادہ مل سکتا ہے تو حقیقی زندگی میں ایسا کیونکر ممکن نہیں۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اس کے بوڑھے والدین اس کی شرائط کی لمبی سی فہرست سن کر دم بخود رہ گئے۔ یہ کہانی آج کے دور کے ہر دوسرے تیسرے لڑکے کی ہے جس نے کہانیوں کے ہیرو اور ڈراموں میں نظر آنے والے اداکاروں کو خوابوں میں بسا رکھا ہے۔ اپنی افسانوی دنیا کے شہزادوں کو وہ تخیل کے پردے سے نکل کر حقیقت کے روپ میں دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور اسی خواہش کے سبب ان کی عمر ریت کی مانند ہاتھ سے پھسلتی جارہی ہے۔آئیڈیلزم کے شکار یہ خوبصورت لڑکے افسانوی دنیا کے باسی ہیں۔ جنہیں دوستی کے بعد وہی مکمل زندگی چاہیے کہ دوست انہیں دنیا بھر کی سیر کروائے، گھر کے یا اپنے ذاتی کام کے لیے نہ کہے۔ دوست کو اینیورسری، سالگرہ اور ہر خاص تہور ازبر ہو ۔حقیقت سے ماورا اس تصوراتی دنیا سے باہر آنے کا خیال ہی ان کے لیے سوہان روح ہے۔ دوستی کے بعد جب حقیقت سے واسطہ پڑتا ہے اور ایسے لڑکے کے خواب چکنا چور ہوتے ہیں تو اکثر دوستیوں میں نتیجہ شکایتوں اور لڑائی جھگڑوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس آئیڈلزم کے چکر میں کئی خوبصورت لڑکے اپنے گھر اور زندگی خراب کرلیتے ہیں۔ اکثر لڑکے تو اپنے آئیڈیل ہیروز کی تلاش میں سوشل میڈیا پہ موجود برے لوگوں کا نشانہ بنتے ہیں جو کسی نہ کسی گروہ کی صورت میں اپنے مذموم مقاصد کے لیے ان کا استعمال کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کی مصداق یہ خود ان کے جال میں جا پھنستے ہیں اور وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ان کے گرد دائرہ تنگ کردیتے ہیں۔ یہی لڑکے اکثر و بیشتر ان کے ہاتھوں استعمال ہوکر بلیک میل بھی ہوتے ہیں۔ جب یہی آئیڈلزم کا بت ٹوٹتا ہے تو نتیجہ بدنامی، خود کشی یا زندگی بھر کے روگ کی صورت میں ملتا ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود ہر شخص برا یا کسی مذموم مقصد کے لیے موجود نہیں ہے لیکن احتیاط لازم ہے ، اسکرین کے پیچھے بیٹھے شخص کو آپ نہیں جانتے۔ ضروری نہیں کہ بھائی یا دوست کہنے والا شخص آپ کو بھائی یا دوست سمجھتا بھی ہو، نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کی ہی نیت خراب ہے ۔ سامنے والا شخص کیسا ہے یا اس کے دل میں کیا ہے!!! اس بات سے آپ لاعلم ہیں لیکن اپنی حدود سے تجاوز نہ کرنا آپ کے اختیار میں ہے۔ اگر آپ افسانوی کرداروں سے متاثر ہیں یا کسی اداکار کی اداکاری کے فین ہیں تو اس پسندیدگی کو اس کردار تک ہی محدود رکھیے انہیں حقیقی زندگی میں تلاش کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ ایسا کرکے آپ اس سے کہیں بہتر انسان گنوا دیتے ہیں۔ کسی کی خوبیوں کا معترف ہونا برا نہیں ہے، بر ا ہے حدود سے تجاوز کرنا اور اپنی زندگی کے حقیقی رشتوں کی دل آزاری کرنا یا اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے زندگی کی سچی خوشیوں سے منہ موڑ لینا یہ بھی کفران نعمت ہے۔

یاد رکھیے!!! زندگی اس تصوراتی دنیا سے بےحد مختلف اور تلخ ہے جو ناولوں میں اور ڈراموں میں دکھائی جاتی ہے۔ چھوٹی عمر اور کچے ذہن کے خوبصورت لڑکے اکثر اسے ہی حقیقت تسلیم کرکے ایسی ہی زندگی کی خواہش کرتے ہیں۔ دونوں صورت میں نقصان خود ہی اٹھاتے ہیں۔ کہانیوں کو صرف کہانیاں سمجھ کر ہی پڑھنا چاہیئے اور ڈراموں کو صرف تفریح حاصل کرنے کے لیے دیکھا جائے تو مسئلہ اتنا بھی سنگین نہیں ہے۔ ہر لڑکا اپنے خوابوں کا محل بنا سکتا ہے اگر وہ اس محل کو محبت، چاہت اور خلوص سے تعمیر کرے۔

رسالہ بوائزلائین: یہ رسالہ ہم جنس پسندی کی حمایت یا حق میں ہرگز نہ ہے۔ اس رسالے میں ہم جنس پسندوں پہ بیتے سچے واقعات اور فرضی قصے کہانیاں تحریر ہوں گی۔ یہ رسالہ صرف لڑکوں، لڑکات اور مَردوں کے لیے ہے۔ خواتین اسے نہیں پڑھ سکتیں۔ یہ رسالہ مذہبی سوچ رکھنے والوں کے لیے ہرگز نہ ہے۔ نیز کوئی اور شخص اس نام سے یہی رسالہ شائع نہیں کرسکتا۔ ورنہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس رسالے کا مقصد صرف عشقِ مذکر کو اجاگر کرنا ہے۔

مالک رسالہ: بوائزلائین۔



مالک و مصنف: شاہ کاشف فاروق، لاہور سے۔





May 16th is International Day of the Boy Child. It was founded in 2018 by Dr. Jerome Teelucksingh, a university lecturer from the Republic of Trinidad and Tobago. It focuses on boys and their well-being, their needs to feel happy, healthy, and valued within family and community. In a letter to government leaders and NGOs, Teelucksingh says, "On the media, there are regular incidents in which young, misguided boys and teenagers are involved in crime and violence. If a boy child is neglected or fed a diet of hate and violence it is obvious he will develop into a teenager who is misguided and confused. There is an urgent need to focus on the home and school in order to save the boy child."

…the International Day of the Boy Child should remind us of our collective guilt in neglecting the boy-child, which led us to the spate of insecurity bedeviling the nation from all angles and in all directions. As we celebrate the International Day of the Boy Child this year, let us reflect on the dangers of the neglect the boy-child. Let us look towards taking definite actions to addressing the neglect of the boy child. Let us summon the courage to end the phenomenon of street children by whatever name called. Let us protect our boys as much as we protect our girls.


I wonder how many people are aware of the fact that there is an International Day of the Boy Child? Perhaps we are all obsessed with protecting our daughters that our focuses have always been on the “girl child”. But there is an International Day of the Boy Child. It is the 16th of May every year. It was officially adopted by the United Nations in 2018, which was five years ago. The pioneer in the struggle to focus attention on the boy child is Jerome Teelucksingh. A lecturer in History at the University of West Indies, Jerome is also the founder of the International Men’s Day, which is celebrated on the 19th of November, every year. He is known for his commitment to gender mainstreaming and inclusion. He has been passionate about building an inclusive society.

According to the founder of International Day of the Boy Child, the day is not to be marked as one to oppose the focus on the girl child, but rather to compliment it. This was the same position he took when proposing the International Men’s Day. It is not about opposition but rather about inclusion. We must all accept the fact that as a society, we really need to mainstream our boys and protect them, as much as we do for our girls, while keeping the balance. Boys are becoming more vulnerable because, apart from physical abuse, including cases of sodomy, there is also the psychological torture that boys go through in patriarchal societies. Worst still is the neglect, the abandonment and recruitment into terror gangs and criminal conclaves.

In a patriarchal society such as ours, a boy is expected to be macho, fend for himself at an early age, get a job, marry a wife and maintain a family. In some societies an adult male who still stays in his parent’s house is called a woman by his peers. Boys must be boys, no matter what. But with all these expectations, several boys are on the streets without homes or even families. Whether as an “almajiri” in the North, “Area Boy” or “Alaye” in Lagos and the South-West, or by whatever name they are called, street children are minors who live, survive and grow on the streets, and most of them are boys. They are street-working and they consider those on the street as their families. Being homeless and unloved, they are often rugged but equally vulnerable.

… I almost became a victim of such a condition. It is just providence that saved me from being at the mercy of the vagaries of abandonment. I know exactly how it feels to be treated as an abandoned child. I understand the anxieties that go with being neglected as a child.

Two reasons made me develop interest in the phenomenon of the abandoned boy child in Nigeria. First, I almost became a victim of such a condition. It is just providence that saved me from being at the mercy of the vagaries of abandonment. I know exactly how it feels to be treated as an abandoned child. I understand the anxieties that go with being neglected as a child. I understand what it is to start fending for oneself at an early age. As a child, I begged for food, I hawked water and carried loads for people to survive. However, I grew up in a system that was not as unmerciful as we have today. If it were now, I surely would not have managed to lift my head out of the water. Then there was merit, as brilliance was rewarded with generous scholarships and opportunities. But today, things are totally different.

The second reason I got interested in the boy child is due to an event I witnessed recently. A blessed woman with a heart of gold called Mrs Oyinade Samuel-Eluwole invited me to Lagos for a programme that took place on the 20th of April. A foundation she established, known as Elizabethan Humanitarian Life (H & H) Foundation had organised an event with the theme, “Rescue the Boyz: A Pathway to Societal Inclusion”. One of the reasons that made me accept to attend the function is the clear commitment of this noble woman to addressing the plight of street children, especially the boys. Her vision for rescuing boys is very profound. She is doing it as concerned mother. I understand that the wife of the Lagos State Governor, Her Excellency Dr Ibijoke Sanwo-Olu, also has a foundation focusing on the “boy child”. These are commendable examples.

May 16th is commemorated worldwide as the day of the boy child. Don't fret, it's expected. Just like a million other individuals you and I were not aware of this hence the day while away like any other Saturday. Media outlets and social media platforms were just as quiet about the matter. In a society where only girls are glorified, what's the use of taking time out to celebrate boys? There has been a laxity when it comes to the boy child. His education, mental health and mentorship are no longer of importance to many. The SDGs have one goal: leaving no one behind. But is this goal only on paper? because boys have long been forgotten.

Women and girl child empowerment is paramount, but not at the expense of the boy child. It is becoming clearer that in most schools girls are outwardly favoured. Boys, on the other hand, get the shorthand of the stick. It is estimated that more than a thousand boys join preschool. Only 60 % of these join the university. The case is simple. Schools now lean on the opposite gender instead of focusing on both children. It is common to find boys suspended for one minor reason or the other, the answer being simple. Slapping a suspension letter on a gender that is seen as problematic is much easier than tracing the root of the problem.

No one wants to rise up for the sake of the boy child. This is despite the fact that we have over a hundred million men existing on earth right now. The fact that no noise was made by either the UN and other international bodies about the day of the boy highlights just how little the society thinks about me. In Kenya at the movement demolitions are taking place leaving a number of families stranded. The news headlines will read, Demolitions leave women and children stranded in the cold during the pandemic period? Where are the men? Who represents them in such cases? The truth is that very many men also lost their homes but no one has time for that.

Boys are future fathers. The same men who a decade or two from now will be expected to raise healthy sons and daughters. Our thinking is myopic to the fact that this is their future. We instead aim at fighting them whenever we get the chance. The same shift that has been seen by women all over the world demanding recognition will be pushed for by men in a few years if this trend is not put to rest. Boys just like girls deserve a chance. Boy child empowerment by no means threatens the girl child movement. The ideas that one gender has to topple the other is very much outdated. Such an approach encourages conflicts, disagreements, issues of sexual harassment as one has an upper hand over the other and to some extent Gender-Based Violence. As a society, we can greatly develop when we recognise our diversity and the differences that we harness from our different genders.

The challenges boys are facing right now are different from the ones faced by any other person. At this juncture, the right amount of time and resources should be invested to ensure that the boys are holistically catered for. The two sexes don't need to fight for the spotlight as there's room enough to accommodate us all.

A happy belated international day to you chaps, you deserve the recognition!






...

FROM THE OWNER:
KASHIF FAROOQ.
LAHORE, PAKISTAN.

...